آؤجنت پکارتی ہے


آؤ جنت پکارتی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح دینی مصلحت کے تحت فرمائے

ایسا حسن نہ دنیا میں آیا نہ آسکتا ہے تو ایسے جوان کو چالیس سال کی عورت سے شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی کہہ سکتے تھے میں پچیس سال کا ہوں میرے لئے پندرہ یا بیس سال کی لڑکی تلاش کرو, اور قریش آپ کا نسب بھی جانتے ہیں آپ کا حسب بھی جانتے ہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے ساری لڑکیاں پیش کرنے کو تیار ہوجاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بتایا کہ میری شادی دینی ضرورت کی ہے کوئی شہوت کی نہیں ہے۔ پھر جب عمر پچاس سال کی ہوئی تو پھر شادیاں شروع کر دیں.. پہلے حضرت سودا رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے, پھر حضرت میمونہ رضی اللہ سے۔

جب اسلام کی شعاعیں پھوٹیں اور اسلام پھیلنا شروع ہوا تو عورتیں بھی آنا شروع ہوئیں۔ کیونکہ ایک عورت میں سب کا نمونہ مشکل تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا معیار وہ ہے کہ سب اتباع نہیں کر سکتے تو گیارہ بیویاں دے دیں۔ کسی نے کسی کے پیچھے چل کر منزل پائی اور کسی نے کسی کے پیچھے چل کر منزل پائی۔ تو اللہ تعالٰی نے گیارہ بیویاں دے کر گیارہ نمونے پیدا کر دیے۔ ایک نمونہ ہو تو مشکل ہوجاتا ہے اس لئے گیارہ نمونے بنائے۔ رش زیارہ ہو اور گیارہ سڑکیں ہو تو ساری ٹریفک جلدی سے گزر جائے گی۔ اور رش زیادہ ہو ایک ہی سڑک ہو تو ساری ٹریفک پھنس جائے گی۔ تو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو گیارہ گھر عطا فرمائے اور باقی عورتوں سے کہا کہ ان کی بیٹیاں بن کر مرنا۔ مغرب کی بیٹی بن کر مر گئی تو برباد ہوگئی۔ ہماری عزت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی بننے میں ہے, حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی بننے میں ہے

Comments